گستاخِ رسول کی سزا کا قانون اور پاکستان

ہم ہمیشہ کچھ نہ کچھ اچھا کرتے رہتے ہیں اور بعض اوقات ہم سے بہت کچھ برا بھی ہوجاتا ہے یہ سب ہماری زندگی کا معمول ہے ہم اسی طرح جیتے ہیں اور ہماری دنیا میں قوانین کے ردوبدل کا سلسلہ بھی جاری و ساری رہتا ہے ، ہم وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے قوانین تبدیل کرلیتے ہیں جو اب ہماری سوچ و معیار کے ساتھ مطابقت نہ رکھتے ہوں ۔  جیسے کوئی وقت تھا کہ عورتوں کو جانوروں کی حیثیت حاصل تھی انہیں اپنی زندگی جینے کا کوئی حق حاصل نہ تھا لیکن  پھر ایک وقت ایسا بھی ا ٓیا کہ قانون میں تبدیلی رونما ہوئی اور عورتوں کو مردوں کی طرح جینے کا اختیار دیا گیا یہ سب قانون کی تبدیلی سے ہوا۔
ذہن نشین ہو کہ وہ قوانین جو معاشرے کے لئے نقصاندہ ہوں انکا خاتمہ  لازم ہےکیوں کہ معاشراتی قانون لوگوں کی بھلائی کے لئے ہوتے ہیں انہیں تکلیف میں مبتلا کرنے کے لئے نہیں، اگر کسی قانون سے انسانیت کی بقا کو خطرہ لاحق ہو تب تو  اسے بدل دینا ہی بہتر ہے ۔ لیکن کوئی اایسا قانون جس میں  لوگوں کی بقا ہو اگر اس کو ہی ختم کردیا گیا تو یہ رویہ تاریخ  انسانیت میں باعث شر ہوگا

اگر غور ہو تو دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی عقیدہ سے وابستہ ہوتا ہے اور ہر انسان اپنے عقیدہ سے بے پناہ محبت کرتا ہے اگر آپ اسکے عقیدہ کے خلاف تنقید سے کام لیں تو نتیجہ دو دو ہاتھ کی صورت  میں سامنے آئیگا  ، کیوں کہ  ہر انسان اپنے عقیدہ سے چپکا رہتا ہے اور اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے

مسلم دنیا میں گستاخ رسول کی سزا کا قانون بڑی حکمت و دانائی سے تشکیل دیا گیا تھا ۔ آپکو یاد ہی ہوگا کہ  کچھ عرصہ قبل ڈینمارک نے شرانگیزی کی انتہا کرتے ہوئے تاریخ کی بدنام ترین اور رست آمیز حرکت کی تھی جس کے باعث کروڑہاں مسلمانوں کی  دل آزاری ہوئی ۔پاکستان کی طرح اگر ڈینمارک میں بھی کوئی قانون ہوتا تو  آزادی ء اظہار کے نام پر انسانی بھائی چارے اور  امن میں دراڑ ڈالنے کی غلیظ حرکت کوئی کرہی نہیں سکتا تھا ، لیکن ایسا قانون نہ ہونے کی بنا  پر کچھ شر انگیز عناصر مذہبی دنیا کی اس پر امن فضا کو آلودہ کررہے ہیں ۔

اگر آپ بھی میری رائے سے متفق ہیں تو یقنا آپ بھی یہی خواہش کریں گے کہ جس طرح کا قانون رسول اللہ ﷺ کے دور میں رائج تھا جو کہ الحمد اللہ آج بھی پاکستان میں رائج ہے  وہ دنیا کے ہر ملک میں قائم کیا جائے ۔

لیکن اسے کے برعکس کچھ عرصہ قبل پنجاب کی ایک خاتون آسیہ کے معاملے کو لیکر  امن دشمن عناصر کس طرح پاکستان پر دباو ڈال رہے تھے کہ پاکستان بھی انہیں کی طرح جہالت کی دوڑ میں حصہ لے جس طر ح انہوں نے خدا کے نازل کردہ کلام  توریت زبور اور انجیل کو اپنی منشا کے مطابق بدل دیا  تھا ، چاہنے لگے کہ پاکستان بھی انہیں کی طرح   اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلہ پر نظر ثانی  اور اس میں ترمیم کرنے کی گستاخی کرے  اور اللہ کے عذاب کے شکنجے میں آجائے ۔  تاکہ ناپاک ارادے رکھنے والے آزادی اظہار رائے کے نام پر پاکستان میں بھی رسول اللہ ﷺ کے شان میں گستاخی کرتے پھریں اور انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو۔

خدانخواستہ  اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان خانہ جنگی میں پنھس کر اس طرح کمزور ہوجائے گا ، کہ پھر یہ زمین تو رہے گی مگر اس کا نام پاکستا ن نہ ہوگا ۔

اور پھر قیامت بھی قائم ہوگی  ۔ اور خدا کے رسول ﷺ بھی وہیں ہونگیں  اور ہم بھی انکے سامنے سر جھکائے کھڑے ہونگے ۔

ادب سے نہیں     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    بلکہ شرم سے

Advertisements

آسیہ کا ڈرام

اہل ِ یہود و نصاریٰ کے ڈراموں سے کون واقف نہیں اس دنیا ءِ فانی میں لوگ پیدا تو خدا کی مرضی سے ہوتے ہیں لیکن جیتے یہود کی مرضی سے ہیں ۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ  ، لیکن یہ سچ ہے یہ دینا تمام انسانوں کے لئے امتحان حال ہے لیکن اس دنیا کا امتحان تو اسی دن شروع ہوگیا تھا جس دن یہود کے ناپاک اراادوں نے اسرائیل کو جنم دیا اور اس خطے کا امن آمد مسیح تک کے لئےپس ِپردہ چلا گیا ،  خیر وقت ملا تو ہم اس پر بھی ضرور تذکرہ کریں گے ، فی الحال کچھ پرانا سا زخم یاد آگیا ۔
آپکو تو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان نے یکے بعد دیگرے دو بڑے ناموں کو کھودیا ، سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی ۔  جب بات سے بات نکلتی ہے تو کبھی کارِخیر پر اختتام پذیر ہوتی ہے تو کبھی کسی بڑے سانحہ کی وجہ بنتی ہے ، اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا خدا جانے کہ کوئی چال تھی یا محض حادثہ جس سے پنجاب کی ایک گھریلو خاتوںمیں وہ جراٗت  آگئی  کہ ایک مسلم ملک میں مسلمانوں کے بیچ رسول ِخدا ﷺ کی شان میں لگی گستاخی کرنے ،
بس ۔۔۔۔

اہل کفر تو موقع کی تاڑ میں  بیٹھے ہی تھے کہ موقع ہاتھ آگیا ، علاقائی خبر رساں اداروں سے بھی پہلے کچھ بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بس بات کا رونا شروع کردیا ،  لو جی اکیسویں صدی میں ایک عورت کو موت کی سزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر انہی لوگوں  کے انٹرویو نشر کیئے جاتے جو انہی کی طرح وسیع ذہنیت کے مالک تھے ،  پھر کچھ ہمارے  نظام کے پارکھو دانشوروں کے خیالات بھی نشر ہونے لگے کہ جی یہ تو ایک ڈکٹیٹر کا بنایا ہوا قانوں ہے ، اور ہم جمہوریت پسند لوگ کسی آمر کی باقیا ت تھوڑی نہ قبول کریں گے ۔  شاید میرے عزیز مسلم دانشوروں نے یہ خیال نہ کیا کہ گستاخِ رسول کی سزا کا قانون تو خد رسول پاک ﷺ کے وقت سے رائج ہے ، ۔
خیر پہلے پہل تو یہ خبر سامنے آئی کہ پنجاب کی ایک آسیہ نامی خاتوں  نے رسول اللہ ﷺ کے شان میں گستاخی کی
دوسری خبر یہ آئی کہ اسے قانون کے تحت سزا ءِ موت سنائی گئی۔
اب اصل ڈرامے کا وقت آچکا تھا ، کیوں کہ اس قانوں کے ہوتے ہوئے  وہ نبی پاک ﷺ کے شان میں گستاخی کی جراٗت پاکستان میں نہیں کرسکتے صرف ڈینمارک اور امریکا جیسے ملکوں میں ہی کرسکتے ہیں ، اب  انہیں پاکستان  میں بھی اپنے ڈراموں کو رچانے کا صحیح وقت دکھائی دے رہا تھ ا، بس پھر تو ہیومین رائیٹس   اور  وومین رائٹس والوں نے اپنا کام شروع کردیا ، بظاہر آسیہ تھی لیکن پس ِ پردہ قانون کا خاتمہ مطلوب تھا  پاکستان پر بیرونی دباوٗ بڑھتا جارہا تھا ،عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ جان پال خود یسوع مسیح کے طرزوتعلیم  کو توڑتا ہوا  سیاست میں گھسنے لگا ،

دوسری طرف ہمارا حال یہ تھا کہ اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی نے جاکر پوپ کی دل جوئی شروع کردی اور سلمان تاثیر نے کورٹ کے فیصلہ کے خلاف  آسیہ سے ملاقات کی اسے تسلی دلائی ،   پھر جو ردعمل  سامنے آیا اسکے  نتیجے میں سلمان تاثیر کے بعد شہباز بھٹی بھی اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے ۔

اور کفار کا ڈرامہ ناکام ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ لیکن میرے ہم وطن دوستو اور میرے مسلم بھائیو ۔۔۔ یا د رکھنا یہ ڈرامہ ختم نہیں ہوا ہے صرف ناکام ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ شیطان تو بندے کی سانس نکل جانے تک اسے گمراہ کرنے میں کوشاں  رہتا ہے ۔ اس لئے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ  وہ توبہ کرچکا ہو ۔ کہ آئندہ اس قانون کو کبھی ختم کرنے کی کوشش نہیں  کروں گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ شک نہیں کہ وہ کسی دوسری آسیہ کی تلاش میں ہو ، اور  یہ بھی ممکن ہے کہ اب کی بار اسکی چال ہی کچھ اور ہو لیکن مقصد پھر بھی وہی رہے گا ،

سگمنڈ فرائڈ اورضمیرکی آواز

ضمیر کی آواز جینے نہیں دیتی۔ اسکا تو ضمیر ہی مرچکا ہے ۔ تیرا ضمیر بھی نا  ۔ وغیرہ وغیرہ اس طرح کے فقرے ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں عموماَََ سنتے رہتے ہیں ، لیکن شاذونادر ہی اس بات پر فکر کرتے ہونگے کہ آیا یہ ضمیر ہوتا کیا ہے اسکی آواز کی حقیقت کیا ہے ؟ لیکن  پھر بھی یہ آواز تو ہر کوئی سنتا ہے پھر کبھی تو ہم اس پر کان دھرتے ہیں تو کبھی منہ پھیرلیتے ہیں ، لیکن وہ آواز ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہتی ہے ۔

ماہرنفسیات  سگمنڈ فرائڈ کے نزدیک ضمیر پچپن کی یاداشت کا وہ زخیرہ ہے جو ہمیں اپنے والدیں سے پر خیر نصیحتوں اور نکتہ چینیوں کی شکل میں ہمارے اذہان میں محفوظ ہوجاتا ہے اور پھر ہم تمام زندگی اپنے والدین کی نکتہ چینیوں کا بھنڈارا اپنے سر لیئے پھرتے ہیں ، والدین رہیں یا نہ رہیں لیکن وہ بھنڈارا والدین کی کمی کو پورا کرتا رہتا ہے ۔

جیسے بچپن میں آپ کوئی غلط کام کررہے تھے یا کر چکے تھے تو فوراََ آپکے والدیں نے اس پر تنقید کا پیالا آپکی یاداشت میں انڈیل دیا ۔ اب چونکہ وہ غلط کام تو ہوچکا اور کام تو مکمل ہوتے ہی غائب ہو جاتا ہے پھر اس کام کو دوبارہ پکڑ کر ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ ہاں البتہ اس کام کے نتیجے  اور اثر کو زائل کرنے کے لئے اقدامات ضرور کیئے جا سکتے ہیں ۔

جی تو ہم بات کررہے تھے کہ کام تو ایک بار ہوا اور پھر ہوتے ہی ختم بھی ہوگیا لییکن اسکے نتیجے میں جو تنقید کا پیالا پینا پڑا اسکی کڑواہٹ یا مٹھاس ہماری یاداشت میں  ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئی ۔ اب ہم زندگی میں   جب بھی کبھی  ویسا ہی کام یا اس  نوعیت کا کوئی دوسرا کام کریں گے تو والدین  کی غیر موجودگی   میں انکی  نکتہ چینی ایک نئی آواز میں سنائی دیگی اور وہ آواز قدرے ہماری اپنی آواز سے ملتی جلتی ہوتی ہے ،  لیکن اس وقت ہم صرف  اور صرف سن رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ آواز ہمارے اندر سے آرہی ہوتی ہے ۔

میرے نزدیک سگمنڈ فرائڈ کی یہ تھیوری اتنی طاقتور نہیں کہ تلاش حق میں زیادہ وقت چل پائے یا زیادہ  سوالات کا بوجھ اٹھاسکے ۔ جیسے ضمیر کی آواز تو وہ لوگ بھی سنتے ہیں جنہوں نے بچپن ہی میں اپنے والدین کو کھودیا تھا ، چلیں اگر ہم تسلیم بھی کرلیتے ہیں تو پھر یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ جس طرح ہر انسان ایک الگ زاویہ سے دنیا کو دیکھتا اور سوچتا ہے لحاظا وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بھی  اسی انداز سے کرے گا ،  اور نتیجتاََ  ضمیر  کی آواز ہر دو انسانوں میں  الگ ہوجائے گی ، لیکن ایسا ہرگز  نہیں ۔
دنیا میں ہزاروں لاکھوں زبانیں بولیں جاتی ہیں ان گنت اوام کے بیچ ان گنت رسومات ہیں سینکڑوں مذاہب ہیں ،  ہر مذہب کا اپنا زاویہ ہے ہر قوم کی اپنی ذہنیت ہے ہر فرد دوسرے سے مختلف انداز میں دیکھتا سوچتاہے لیکن باوجود اسکے ضمیر کی آواز سب میں یکساں ہی ہوتی ہے ۔ کیوں؟

ان تمام چیزوں کا ضمیر کی باتوں پر اثر کیوں نہیں ہوتا ۔
دنیا کے مختلف ممالک  سے ایسے لوگوں کو جمع کیا جائے جو کہ انسانی خون بھاچکے ہوں ، انکی سوچ انکے عمل  کے متعلق  مختلف ہوسکتی ہے ، وہ مختلف وجوہات پیش کرسکتے ہیں ، انکے دلائل الگ الگ  ہونگے ، انکی ذہنی ارتقاء بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے ، ان میں غصہ کی مقدار بھی کم و پیش ہوسکتی ہے ، وہ بہت سی باتوں میں ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہوسکتے ہیں ، لیکن جب ضمیر کے رد عمل کی بات  ہوگی تو صرف اور صرف دو نتیجے ہی سامنے آسکیں گے ۔

۱۔ ضمیر نے ملامت کی
۲۔ ضمیر نے ملامت نہیں کی (اس موضوع پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے )

اب ان مجرموں کو آپ ایک طرف کریں جن کے ضمیر نے ملامت کی تھی اور ان سے دریافت کریں کہ ضمیر کیسا ردعمل پیش کررہاتھا ۔ چونکہ انسانی جان لینا ایک غلط عمل ہے لحاظا سب کو  انکے ضمیر نے ملامت ہی کی ہوگی ، رد عمل کم اور زیادہ ضرور ہوسکتا ہے لیکن مختلف نہیں ہوسکتا ۔
یقیناََ ہم والدین کی نصیحتوں کو ضمیر کا نام نہیں دے سکتے ۔ ایک تو یہ کہ ضمیر ہمیں ان باتوں پر بھی ٹوک دیتا ہے جن پر والدین نے کبھی نہیں ٹوکا ۔ دوم یہ کہ ضمیر ان لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے جو اپنی یاداشت کھوچکے ہوتے ہیں جو اپنا  ماضی بھول چکے ہوتے ہیں ،

لحاظا سگمنڈ فرائڈ کی تھیوری ذہن میں موجود یاداشت کی اور اشارہ کرتی ہے جبکہ ضمیر کی آواز ذہن سے نہیں  بلکہ قلب سے آتی ہے ۔

گونگن جي ڪچهري

اف ……………. ٽي وي جو رموٽ به ڪم نه ٿو ڪري ، هي خبر ناهي ڪهڙو چينل آهي صبح کان بس انهيءَ چاچي کي ٿو ويٺو ڏسان ۽ ٻڌان عجيب عجيب ڳالهيون ڪري اڌ چريو ڪري ڇڏيو اٿس ، پر ڪريان ته ڪريان به ڇا مان خود هتي هڪ ڌوست جي فليٽ تي ترسيل آهيان سو ڪنهن ٻي جي شيءَ تي ڪاوڙ به ته نه ٿو ڪري سگهان نه ته اهڙا رموٽ اڪثر ديوارن سان هنيا ويندا آهن . خير

بيزار ٿي چانه پيئڻ لاءِ ٻاهر هوٽل تي ويس هوٽل تي چڱو سڪون هو هڪ ٽيبل جا ٿورو فاصلي تي رکيل هئي ان تي پنج نوجوان ڪچهري ۾ مگن هئا ، چانه جون پياليون هٿن ۾ ته وري سگريٽن جا ڪش ، هو پنهجي جهان ۾ مست هئا آس پاس جي ته ڪا فڪر ئي نه هئن .

ٿوري دير بعد مونکي احساس ٿيو ته مونکي انهن جو شور ٻڌڻ ۾ نه پيو اچي ، …………………… مان حيران ٿي ويس هي سڀ ڇا ٿي رهيو آهي . هو نوجوان منهنجي سامهون ڳالهائي رهيا آهن ليڪن مان انهن جي آواز ڇو نه پيو ٻڌي سگهان …………………….. هي سڀ ڇا ٿي آهي؟ ……………………………. ڪٿي مان ٻوڙو؟ …………………………. نه نه نه …………………………….. ائين نه ٿو ٿي سگهي ………………………… يا خدا هي سڀ ڇا ٿي رهيو آهي ؟؟؟

انهيءَ ٻڏتر ۾ چانه به ٺرندي ويئي ۽ مان مٿو پڪڙي سوچڻ لڳس. ليڪن مونکي ڪجھ به سمجھ ۾ نه اچي رهيو هو ، حالانڪ اڪثر ماڻهو مٿي کي پڪڙي جڏهن سوچيندا آهن ته انهن کي سڀ ڪجه سمجه ۾ اچي ويندو آهي ليڪن مونکي اڄ ڪجه به سمجه ۾ نه ٿي آيو ، هوٽل جو مالڪ مونکي پريشان ڏسي سمجهي ويو ان مونکي ٺونٺ هڻي منهن ڦٽائي اشارو ڪيو ٻڌايو ته تون جيڪو پڪڙي ويٺو آهين سو منهنجو مٿو آهي تون پنهنجو مٿو پڪڙ ته دماغ ڪم ڪريئي.

ان وقت پريشان هئس انڪري گهڻي ڦڪائي نه ٿي پر هاڻ مونکي ڪجه ڪجه ڳاله سمجه ۾ اچڻ لڳي هئي . اصل ۾ ڪجه سال پهرين منهنجو هڪ ڌوست متو حيدرآباد واري راڻي باغ ۾ گهمڻ ويو جتي ان هڪڙي حسين و جميل دوشيزه ڏٺي عاشق ته اڳيئي هو سو جيئن ئي نظرون مليون هي درويش دل ڏيئي ويٺو . سو هڪ ڏهاڙي سندن خوابن جي شهزادي (انهيءَ ڇوڪري) کيس سامهون اچي I love you چيو پر هن کي ٻڌڻ ۾ نه آيو هي پريشان ٿي ويو ته هن کي پنهنجي محبوبه جي آواز ٻڌڻ ۾ ڇو نه آئي ؟

هو هڪ مهيني کان اهو ئي سوچيندو رهيو ان وچ ۾ ڇوڪري جي شادي ڪنهن ٻي سان ٿي ويئي ، پوءَ ئي خبر پيئي ته نقص متو ۾ نه بلڪ ڇوڪري ۾ هو، متو جا ڪن صفا صحيح هئا اصل ۾ ڇوڪري گونگي هئي، هن ويچاري رڳو چپن جي اشاري سان I love you چيو هو آواز ته هن ڪئي ئي نه هئي جو متو ٻڌي ها.
هاڻي منهنجو دل سورنهن آنا سڪون ۾ اچي ويو ، مونکي چڪر سمجه ۾ اچي ويو ته اهي نوجوان ويچارا گونگا آهن ، پوءِ هوٽل واري کان پڇيم . وراڻي ؛ صاحب اهي ويچارا پنج ئي گونگا اٿو،
پڇيم ڪيتري وقت کان اچن پيا ؟
سوچي ٻڌائين ……………………….. چار يا پنج سالن کان .
پڇيم ڪڏهن انهن ۾ جهڳڙو ٿيو آهي ؟
وراڻي نه صاحب ڪڏهن به نه

اچو ته سوچيون

انسان هڪ معاشرتي جانور آهي کيس بيشمار ضرورتن سان گڏوگڏ هڪ اهڙي ساٿي جي به گهرج رهي ٿي جنهن سان هوءَ پنهنجي روح رهاڻ ڪري سگهي ، جنهن سان ڳالهائي هوءَ پنهنجو ذهني بوجه هلڪو ڪري سگهي. ۽ اسان انسان انهيءَ لاءِ زبان جو استعمال ڪندا آهيون، پر زبان جو استعمال ڪڏهن ڪڏهن نهايت ئي هاڃيڪار به ثابت ٿيندو آهي ايتري قدر جو زال مڙس جي وچ ۾ طلاق جي نوبت به اچي ويندي آهي ۽ ٻه سٺا دوست به دشمن ٿي پوندا آهن ،

حالانڪ زبان الله پاڪ جي عطا ڪرده هڪ اهڙي انمول نعمت آهي جودنيا جهان جو ڌن ميڙي به جيڪر ڳوليونس ته به نه لڀي ، هزارين محبتن شفقتن ۽ دعائن جا چشما ان مان ڦٽن ٿا ، پر انهيءَ جي ابتڙ اگر اسان جي زبان سوين ڪڌن لفظن جا ڀنڍار ميڙيو هلي ٿي ، دوستن ۽ ماروئڙن جا جيءَ رنجائي ٿي ۽ کيس سڌارڻ وس کان ٻاهر آهي ته پوءِ ڇو نه اسان پنهنجي گفتگو جو انداز ئي بدلائي ڇڏيون . انهن پنج نوجوانن جو طريقو اپنائي وٺون جيڪي وريهن کان هڪ ٻي جو سهارو آهن ، جن جي پريت هر موسم ۾ شاداب آهي ،
صرف ۽ صرف انڪري جو سندن زبانون اگر مٺيون ٻوليون نه ٿيون ڄاڻن ته اهو به سچ آهي جو اهي کارو ذهر به نه ٿيون ڦوڪين جو صحبتن ۾ ويڇا وڌن .

سهڻي سائين حضرت محمد ﷺ جن جي هڪ ارشاد پاڪ جو مفهوم آهي ته
اگر اوهان مان ڪو الله ۽ آخرت تي ايمان رکي ٿو ته کيس گهرجي جيڪر ڳالهائي ته سٺو ڳالهائي نه ته خاموش رهي.

اسلام جو آغاز ۽ هاڻوڪو زوال

اڄ کان چوڏنهن سو سال پويان اگر ماضي جي عرب تي نظر ڊوڙائيندا ته توهانجي آڏو هڪ اهڙو معاشرو نظر ايندو جتي جو انسان ، درندگيءَ جي زندگيءَ جو قائل، خودغرضي جي زندگي ۾ پاڻ پتوڙيندڙ ملندو، عورت ۽ جانور ۾ ٻيو ڪوبه فرق نو هو سواءِ انجي اگر عورت ڌن واري آهي ته هوءَ انسانن ۾ ڳڻي ويندي هئي . قانون جو معاملو اهو هو جو اگر توهان ڪنهن به قافلي کي ڦري ٿا اچو ته اها شانائتي ڳالهه چئبي پر ان قافلي ۾ توهان پنهنجي ڪنهن عزيز کي به لٽي آيا ته حيف هجي اوهان تي .

اگر دل گهري سنگت اچي ويئي ته سڄو اٺ ڪهڻ جي بجائي انجي هڪڙي ٽنگ ئي پچائڻ ڪافي آهي ، ان سان ڪهڙو فرق ٿو پئي جيڪڏهن اٺ تڪليف ۾ آهي .
جتي اگر ڪنهن عورت تي شرط لڳي ويئي ته سندس پيٽ ۾ ٻار ڇوڪرو آهي يا ڇوڪري ته ان جو پيٽ تلوار سان چيري ڏٺو ويندو هجي، ته اتي ڪنهن جانور جي تڪليف جو ڇا احساس . مختصر عرض ته معاشرتي اندهيري ۾ رهندڙ هڪ قوم جنهن جي شعوري ارتقاءَ جو گمان ئي ڪنهن جي احساس ۾ نه هجي آس پاس جي بادشاهن مان ڪنهن به انهن تي حڪومت ڪرڻ نه چاهي هجي ، ڇاڪاڻ ته هڪ وحشي قوم جيڪا نفس پرستي جي عروج تي هئي اهڙي قوم کي هڪ تهذيب جي شڪل ۾ آڻڻ جو مقصد پنهنجي تهذيب کي خطري ۾ وجهڻ برابر هو.
سن 610 عيسوي ۾ انهيءَ عرب معاشري ۾ رهندڙ هڪ نوجوان هڪ اهڙي تجربي مان گذريو  جو پوري قوم سِري کان ئي تبديل ٿي ويئي نه صرف اهو بلڪه ان انقلاب پوري دنيا کي پنهجي رنگ سان رنگي ڇڏيو .

جي! هي گفتگو هلي رهي آهي عالمِ پناه جناب حضرت محمد ﷺ جي ، حضرت محمد ﷺ اها پهرين هستي هئي جنهن ان معاشري کي اندهيري کان روشني ڏانهن ، جهالت کان باشعور زندگيءَ ڏانهن نيڻ لاءِ هڪ تحريڪ جو آغاز ڪيو. شروع شروع ۾ ته سندن پيغام کي نه صرف رد ڪيو ويو ، بلڪه کين ڪيترين کي مشڪلاتن کي پڻ منهن ڏيڻو پيو جيڪي کين پنهنجي قوم جي طرفان سامهيون آيون.
حضرت محمد ﷺ پنهنجي معمول مطابق مڪي شهر جي آبادي کان ٿورو پرڀرو هڪ جبل جي غار ۾ وقت گذارڻ لڳا هئا ان عرصي دوران انهن کي هڪ تجربو پيش آيو . انهن هڪ غير مرعي وجود کي پاڻ سان مخاطب     ٿيندي ڏٺو ، غير مرئي وجود جنهن کي بائبل روح القدس ڪوٺيو آهي .
روح القدس ! پڙه
حضرت محمد ﷺ ! مان پڙهي ناهيان سگهندو
روح القدس ! پڙه
حضرت محمد ﷺ ! مان پڙهي ناهيان سگهندو
روح القدس حضرت محمد ﷺ کي ڀاڪر پائي زور ڏنو ۽ چيو ته پڙه پنهنجي پالڻهار جي نالي سان  جنهن پيدا ڪيو ، جنهن انسان کي علق مان پيدا ڪيو. بعد ازان حضرت محمد ﷺ پنهنجي گهر اچي پنهنجي زوجه کي تمام واقعو ٻڌائن ٿا ۽ سندن زوجه پنهنجي سوئٽ ورقه بن نوفل  ڏانهن حضرت محمد ﷺ کي وٺي ٿي وڃي ته جيئن هوءَ واقعي جي حقيقت بيان ڪري ته اهو ڇا هو ورقه بن نوفل جيڪو آسماني ڪتابن جو مطالعو رکندڙ هو. تنهن ٻڌايو ته جيڪو توهان سان غار ۾ مليو اهو جبرئيل (روح القدس) هو.

a

اهڙي ريت ان تجربي مان حضرت محمد ﷺ ان نتيجي تي پهتا (وحي جي ذريعي) ته سڀ کان پهرين قوم ۾ ذهني هم آهنگي پيدا ڪئي وڃي . جيئن ته مڪي جا رهاڪو مختلف 360 ديوتائن جي پوڄا ڪندڙ هئا انهن جي ديومالائي فلسفي ۾ هڪ اهڙي ديوتا جو به نالو موجود هو جنهن جو ڪو به بت سندن عبادت گاه ۾ رکيل نه هو ، ڇو جو ان جي صورت ڪنهن به انسان ان کان پهرين نه ڏٺي هئي ۽ اهي ان ديوتا کي الله جي نالي سان سڃاڻندا هئا جيڪو سڀني کان وڏو ديوتا هو جنهن دنيا ٺاهي هئي ۽ انسان کي پيدا ڪيو ، انهيءَ ديوتا جو تصور تمام مذهبن ۾ موجود آهي جهڙي طرح  بائبل جي  پهرين ڪتاب (ڪتابِ پيدائش) جي پهرين باب ۾ ٻڌايو ويو آهي ته ان ديوتا (بائبل کيس ايلوهيم جي نالي سان ڪوٺي ٿي) سڀ کان پهرين 6 ڏينهن ۾ دنيا ٺاهي پوءِ انسان کي پيدا ڪيو لحاظا حضرت محمد ﷺ جي بنيادي ڪوشش اهائي هئي ته پنهنجي قوم کي واحد ديوتا جي تصور تي يڪجا ڪن ته جيئن هوءَ هڪ پليٽ فام تي جمع ٿي سگهن.
۽ بفضله تعاليٰ حضرت محمد ﷺ پنهجي مقصد ۾ ڪامياب ٿي ويا ، ۽ سندن ڪاميابي جو اصل ۽ بنيادي راز انهيءَ ديوتا (الله) جي ويجهڙائي ۽ بندگي هو . ليڪن اڄ حضرت محمد ﷺ جي پيروڪارن (مسلمانن ) جي تعداد ته ڏينهون ڏينهن وڌي رهي آهي پر ساڳي رفتار سان وري زوال پذير به ٿي رهي آهي .
انجو ڇا سبب ٿي سگهي ٿو ؟ ڪٿي ايئن ته ناهي جو هوءَ صرف الله جي نالي کي ته مڃين ٿا ليڪن کيس سڃاڻن نه ٿا ، جيڪڏهن کيس سڃاڻن به ٿا ته سندس اطاعت نه پيا ڪن ۽ نافرماني سبب ويجهڙائپ وڃائي ويٺا آهن .
هڪ ڀيرو ٻيهر سوچيو ته ڪٿي اسان پنهنجي رب کان پري ته نه ٿي ويا آهيون . جو اسان جو رعب ۽ دٻدٻو دنيا تان ختم ٿيندو ٿو وڃي ۽ اسان غلامي جي ورچڙهي رهيا آهيون.

کوئی تو انہیں سمجھائے

جدید ٹیکنالاجیز کی آمد سے  آج کا انسان پہلے کے مقابلے قدرے باخبر رہنے لگا ہے۔ ورنہ ایک طویل عرصے تک انسان اس سہولت سے محروم  تھا اسے کچھ خبر نہ ہوتی تھی – کہ کرہ ارض پر کیا چل رہا ہے کون سی قوم اپنا مستقبل – کھونے والی ہے کس قوم پر حملے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ، اس سال دنیا بھر سے کتنے قافلے حج کو روانہ ہوئے  ، ان میں سے کتنے منزلِ  مقصود کو پہنچے اور کتنے  اس جہانِ فانی کوالوداع کہہ گئے ، کتنے لوٹ مار کا شکار ہوئے ، اور کتنے ذبح کردیئے گئے ۔ یہ سب کچھ بر وقت جاننا کوئی آسان کام نہ تھا ۔
اس لیئے ہم نہیں جانتے کہ ماضی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ بیتا ، ہم تو بس وہی  کچھ جانتے ہیں جو کسی طرح سے دامنِ تحریر میں آکے محفوظ ہوگیا اور جن واقعات و حادثات کی قلم تک رسائی نہ ہوئی وہ تو بس بھولی بسری باتوں کی طرح کہیں کھوگئیں ۔

a

            لیکن آج کا انسان رونما ہونے والے حادثات و واقعات سے باخبر رہنے لگا ہے  ۔ لیکن اس قدر  دردناک واقعات و حادثات کو دیکھنے اور سننے کے بعد دل چاہتا ہے ۔۔۔۔۔  کاش کہ ہم بھی  اُس  بے خبر جہاں میں جیئے ہوتے   ۔۔۔۔۔۔۔۔

آنسو بھی  کہاں آتے ہیں ، غیروں  کے آنے سے

جو اپنوں  کو  دیکھتے ہیں ،  تو  نکل  آتے  ہیں

                                                 میر فتح علی شاہ

یہ باخبر رہنا بھی کتنا اذیت ناک ہوتا ہے جب ہرپل ہر لمحہ  اطلاعات موصول ہورہی ہوں کہ آج اتنے اخبارات میں سرکارِ دوجہاں  حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے شایع کیئے گئے ۔ آج اتنی کتابیں  حضرت محمد ﷺ کے خلاف بازار میں متعارف کرائی گئیں ۔ آج فلوریڈا چرچ کے پادری نے اعلان کیا کہ ہر برس قرآن مجید جلائے جانے کا دن منایا جائے گا ۔  آج ملعو ن ٹیری جونس  نے قرآن پاک نذرِ آتش کردیا ۔ آج اوباما نے بیان دیا کہ مکہ اور مدینہ دہشتگردی کے مراکز ہیں ۔ (معاذاللہ)۔ دو ماہ کے قلیل عرصہ میں عرب ممالک میں غداری کی ایسی لہر چلی کہ جس نے مسلمان حکومتوں کے تختے الٹ دیئے ۔
اس طرح کی خبریں پڑہنے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے ۔۔۔ نگاہیں فلک کو تکتی ہیں ۔۔۔۔  گویا کہ دور کسی ویرانے سے کوئی تڑپتی آواز کسی کو پکار  رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

اے خدا  ! آج تیرے بندے  بے بس ہوئے جارہے ہیں ۔ آج تیرے رسول ﷺ کے چاہنے والے حقارت سے دو چار ہیں ۔
آج تیرے کلام کی کُھلے عام توہین ہورہی ہے ۔
آج تیرے دین کا تماشہ بنایا جارہا ہے ۔
آج تیرے کلمہ گو گولیوں سے چھنی کیئے جارہے ہیں ۔

اے خدا  !
کہاں ہیں تیرے عظیم مجاہد  ۔۔۔۔۔ خالد بن ولید ؓ  ۔   ۔ ۔ طارق بن زیاد ۔۔۔ صلاح الدین ایوبی

اے خدا  !
کیا  اب ہمارا کوئی رکھ والا نہیں ؟ کیا اب تیرا دین رخصت ہونے والا ہے ؟

اے خدا  !
کیا یہ ہمارے مسیحی (عیسائی) بھائی  بھول گئے ہیں کہ انہیں حضرت یسوع مسیح (عیسیٰ ؑ) نے کیا کہا تھا ؟

اس لئے میں تم سے  کہتا ہوں  ۔  کہ آدمیوں کا ہر گناہ  اور کفر معاف کیا جائے گا  ۔ مگر جو  کوئی روح القدس (حضرت محمد ﷺ) کے خلاف  کہے معاف نہ کیا جائے گا ۔اور جو کوئی ابن انسان (حضرت عیسیٰ ؑ) کے خلاف  کوئی بات کہے  اُسے معاف کیا جائے گا ۔ مگر جو کوئی روح القدس  (حضرت محمد ﷺ)  کے خلاف کہے اسے معاف نہ کیا جائےگا ۔  نہ موجودہ زمانے میں اور نہ  آئندہ ہی میں ۔ (متی -۱۲:۳۱-۳۲) 

a

اے خدا  !
کیا  یہ مسیحی پھر بھی نہیں سمجھتے ؟    کیا یہ پھر بھی باز نہ آئیں گے ؟
کیا ہم میں کوئی نہیں جو اُنہیں  سمجھائے ، جو اُنہیں یاد دلائے کہ یسوع مسیح  نے کیا کہا تھا ۔۔۔۔۔

a

نوٹ : میری تحقیق کے مطابق مندرجہ بالا آیت میں لفظ روح القدس کی جگہ روح الحق ہونا چاہیے پر چونکہ عیسائی علما  ہمیشہ  بابئبل میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں لحاظا معلوم ہوتا ہےکہ یہاں پر لفظ روح الحق ، لفظ روح القدس سے بدل دیا گیا ہے ۔  جیسا کہ اس آیت کا آخری حصہ  جس میں لفظ زمانہ استعمال ہوا ہے درحقیقت یہ لفظ کنگ جیمس ورژین  میں موجود ہی نہیں بلکہ وہاں پر دنیا کا لفظ موجود ہے۔

نہ موجودہ زمانے میں اور نہ  آئندہ ہی میں

neither in this world, neither in the world to come.

King James Version

جڏهن مان مديني ويس

مسلسل اُڻ تُڻ لڳي پئي هئي ، موبائل ته هٿ ۾ ئي رکيو هئم ته جيئن بوقت ضرورت ٽائيم ڏسي سگهان ، ليڪن فاصلو به ته ڪو گهٽ نه هيو 500 ڪلو ميٽر آخر ختم ٿيڻ ۾ وقت لڳائيندا ، سو مسلسل بي چيني تي بيچيني وڌي رهي هئي ، ليڪن ان سفر جي نهايت ئي عظيم سعادت جيڪا پروردگار عالم جي فضل و ڪرم سان مونکي عطا ٿي سا والدين جي مشفقانه رفاقت هئي هڪ اهڙي هستي جنهن جي چهري کي پيار و محبت مان ڏسڻ به عبادت هجي. سا جيڪرمتبرڪ سفر ۾ توهان سان گڏ هجن ته ، يقينن ان سعادت جو مثل به اها سعادت خود ئي آهي ،

a

انکان پهرين جو اسان مديني پاڪ پهچون رستي جي ٻنهي پاسن کان ڪاري رنگ جا جبل نظر اچي رهيا هئا ، ڪافي حيران ڪن ڳالهه هئي مون انکان پهرين ڪڏهن به ڪاري پٿر وارا جبل نه ڏٺا هئا ، غور سان ڏسڻ کان پوءِ معلوم ٿيو ته جبل جي محض مٿين سطح ڪاري پٿر سان ڍڪيل هئي ليڪن پورو جبل ڪاري پٿر جو نه هو معاملو ڪافي دلچسپ هو، ليڪن گمان ڪيم ته شايد ٻه يا ٽي هزار سال پهرين هتي ڪو لاوو ڦاٽي ٻاهر آيو هوندو جنهن ڪري اتي جي جبلن تي ڪاري پٿر جي سطح ڄمي وئي آهي ، مون ان ڳالهه جي ڪا کوج ته نه لڳائي آهي ليڪن منهنجو اندازو اهو ئي هو ته شايد ماضي بعيد ۾ ڪنهن قوم تي عذاب آيو هوندو ، جيئن ته قوم لوط به هڪ اهڙي عذاب وگهي ختم ٿي ويئي هئي جنهن ۾ انهن تي آسمان تان نهايت ئي بهيانڪ انداز ۾ پٿرن جي بارش ٿي هئي . ۽ حضرت لوط کي حڪم ڪيو ويو ته پوئتي مڙي نه ڏسجان معلوم ٿئي ٿو ته شايد معاملو نهايت ئي خوفناڪ رهيو هوندو، حضرت لوط جي قوم مڪي کان اتر اولهندي جي ڪنڊ تي موجوده فلسطين ۾ آباد هئي ، ليڪن مهنجو هرگز اهو مقصد ناهي ته حضرت لوط جي قوم تي آيل عذاب جو اثر مڪي جي جبلن تي ٿيو هوندو، ڇاڪاڻ ته جنهن گهڙي فرشتن حضرت ابراهيم کي انهيءَ عذاب جي خبر ڏني ان وقت حضرت اسماعيل پنهجي والده سان گڏ مڪي ۾ آباد هو ، جيڪر ايئن هجي ها ته حضرت ابراهيم حضرت لوط سان گڏوگڏ پنهجي پٽ حضرت اسماعيل جي لاءِ به فڪر ظاهر ڪن ها ليڪن ايئن نه ٿيو حضرت ابراهيم صرف حضرت لوط جي باري ۾ ئي پڇيو جنهن تي فرشتن وراڻيو ته بيشڪ لوط ۽ ان جا ساٿي محفوظ رهندا ليڪن سندس گهرواري عذاب هيٺ ايندي ڇاڪاڻ ته اها پوئتي رهجي ويندڙن مان آهي ، تنهن کانسواءِ به جيڪر ايئن هجي ها ته يقينن ان جو ذڪر باقي رهي ها ۽ انهيءَ عذاب جا آثار به چوءَطرف موجود هجن ها صرف ان هڪڙي پٽي تائين محدود نه هجن .
تنهن ڪري عين ممڪن آهي ته اگر اهو ڪنهن عذاب جي صورت ۾ سامهون آيو آهي ته پوءِ اهو اڃان به ڪو اڳ جو واقعو آهي جنهن جي باقيات محفوظ نه رهي هوندي يا زمين قديم تهذيبن جيئان انکي به پنهنجي پيٽ ۾ دفن ڪري ڇڏيو هوندو ،
آخر انهيءَ تجسس سان گڏ سفر به اختتام تي پهتو والد صاحب دري تان پردو هٽائيندي ٻڌايو ته مير صاحب مديني پهچي وياسين. اُهو ڇا ته يادگار لمحو هو جڏهن هڪ گنهگار انسان اهڙي مقدس شهر ۾ داخل ٿي رهيو هو جيڪو رسول الله صلي الله عليه وسلم جو شهر آهي. اُن لمحي جي منظر ڪشي ڪرڻ منهجي لاءِ ته ناممڪن آهي ، ناممڪن ، بلڪل ئي ناممڪن ،،،،،،،، ٿي به نه ٿي سگهي ،،،،،، آخر توهان دل جي ڪيفيت کي لفظن ۾ ڪيئن ٿا قيد ڪري سگهو ،،،،، توهان ڪنهن انسان کي ٻڌائي ته ضرور سگهو ٿا ته مان توسان بي پناهه محبت ڪريان يا ان کان به دلڪش لفظن جي ذريعي پنهنجي محبت جو اظهار ڪري سگهو ٿا ،،، ليڪن ،،،،،، توهان ڪڏهن به ان ڪيفيت کي بي پرده نه ٿا ڪري سگهو توهان ڪڏهن به ان ڪيفيت جي تصوير ڪشي نه ٿا ڪري سگهو ،

انتظار جون گهڙيون ختم ٿيون ۽ بس اسانکي هوٽل تي پهچايو جلدي ۾ سامان ڪمري تي رکي وضو ڪري وڃي مسجد نبوي ۾ داخل ٿياسين ، کاٻي طرف کان جنت البقيع جون ڄاريون نظر اچي رهيون هيون ، باب فهد کان به اڳتي ٻاهران ئي ٻاهران هلندا وڃي باب جبرئيل کان اندر داخل ٿياسين ، ان دروازي مان داخل ٿيڻ جو سڀ کان وڏو فائدو اهو ٿيو ته اسان مسجد شريف جي اندرين عمارت ۾ داخل ئي اصحاب صفه واري حصي کان ٿياسون ، ڪجهه ئي وکن جي فاصلي تي اسانکي جنت رضوان جي ڀر ۾ نماز ادا ڪرڻ جو موقعو ملي ويو، منهجي سامهون ٿورو کاٻي پاسي کان معذن جي جڳهه هئي جتي رسول الله ﷺ جي وقت ۾ حضرت بلال اذان ڏيندو هو، مغرب نماز کانپوءِ اسان جنت رضوان ۾ ٻه رڪعت نفل نماز ادا ڪرڻ جي سعادت ماڻي .
جيئن ته بابا سائين جو هي ٽيون عمرو هيو ، انڪري کين اتي جي وڌيڪ ڄاڻ هئي ، ۽ اهي نهايت ئي شفيق انداز ۾ ٻڌائيندا ٿي هليا ، نفل پڙهي جيئن ئي فارغ ٿياسون ته بابا سائين چيو ته هلو، رسول الله ﷺ جن کي سلام عرض ڪريون ، ياد رهي ته نبي پاڪ ﷺ جن کي سلام ڪرڻ جو طريقو صحابه ڪرام رضوان الله اجمعين کان جاري آهي ، هاڻي اسان جيئن ئي رحمت اللعالمين ﷺ کي سلام ڪرڻ لاءِ اڳتي وڌياسين رش تمام گهڻي هئڻ ڪري آهستي آهستي هلندا جيئن ئي حجري شريف جي ديوار ڀرسان پهتاسين ته ان وقت مون پهنجي ٽنگن ۾ رڦڻي محسوس ڪئي ،۽ دل زور زور سان ڌڙڪڻ لڳي ڄڻ ته رسول الله ﷺ اتي موجود هئا ۽ انهن جي توجه حاضرين تي هئي ، والله عالم بثواب

وقت گذرندي ته ڪو وقت ئي ناهي لڳندو ، ٻاراڻي وهي کان جنهن در جي زيارت جا خواب ڏسندا ٿي رهيا سين اڄ اتي هفتو مڪمل به ٿي چڪو هو ، پر مسلسل ايئن ئي محسوس ٿي رهيو هو ڄڻ ته اڃان ڪلهه ئي پهتا آهيون ، الله تبارڪ و تعاليٰ پنهنجون رحمتون برڪتون ۽ سلامتي ان شهر تي هميشه قائم ۽ دائم رکي ، آمين ثم آمين.

حالانڪه خواهش ته اها به هئي ته هن تحرير ۾ مديني پاڪ جي مختصر تاريخ، ۽ اتي جا تاريخي ماڳ به بيان ڪندو هلان ته جيئن اسان جا ڀائر ۽ ڀينرون جڏهن هن مقدس شهر جي زيارت تي وڃن ته کين وڌ کان وڌ فائدو حاصل ٿي ليڪن تحرير وڌي وڃڻ جي خيال سان ، محض هڪڙي ڳالهه جي وضاحت ڪندو هلان ته جيئن اسان جا ڀائر جڏهن ان مقدس مقام جي حاضري تي وڃن ته خوب منافو ماڻين ،

دورانِ سلام ڪهڙين حرڪتن کان بچڻ گهرجي؟
• اڪثر نوجوان موبائل فون جي ذريعي وڊيو رڪارڊ ڪري رهيا هئا ،
• رش گهڻي هئڻ جي ڪري رسول الله ﷺ جي بدران آس پاس تي ڌيان وڃي رهيو هو،
• اڪثر ڀائر عمارت جي خوبصورتي ۽ رونقن کي ڏسڻ ۾ رڌل هئا،
• ڪجهه ڀائر پاڻ ۾ جهيڻي آواز ۾ گفتگو ڪندا ٿي هليا ،
• جلدي زيارت ڪرڻ جي خواهش ۾ اڳين کي ڌڪڻ،
• ته ڪنهن جو وري ڪو مائٽ يا ڌوست سلام ڪري ٻاهر انتظار ۾ بيٺو آهي ته هو ان تائين پهچڻ لاءِ جلدي ۾ سلام ڪري ٻاهر نڪرڻ جي ڪوشش ۾ هو ،

سلام تي وڃڻ وقت عمده عمل
• نهايت ئي ادب واحترام ۽ آهستگي سان اڳتي وڌڻ گهرجي ، ايترو به آهسته نه جو پوين کي تڪليف ٿي ۽ ايترو به تيز نه جو اڳين کي تڪليف ٿي،
• پنهجي توجهه نبي پاڪ ﷺ جي طرف رکجي، ۽ دل ئي دل ۾ ذڪر يا صلواه و سلام پڙهڻ گهرجي،
• جيئن ئي سنهري ڄارين جي سامهون پهچو ته هٿ هيٺ ڪري نهايت ئي ادب و احترام سان دل ئي دل ۾ يا بلڪل ئي جهيڻي آواز ۾ چئجي (السلام و عليڪم يارسول اللهﷺ) يا وري (الصلواه وسلام و عليڪ يا رسول الله ﷺ).
• ليڪن آواز بلڪل ئي جهيڻي هئڻ گهرجي،
• ياد رکجو ته هي تمام ئي ادب احترام جو مقام آهي
بعد از خدا تو هي ، قصه مختصر
• بعد ازان حضرت ابوبڪر صديق ۽ حضرت عمر فاروق کي سلام عرض ڪري سامهون واري در کان ئي ٻاهر نڪري وڃجي

جب شیکسپیئر کراچی آیا

میں اپنے چند احباب کے ساتھ گفتگو میں مگن تھا، کہ ایک دوست نے کہا کہ چلیئے جی ہم آپکو ایک لطیفہ سناتے ہیں ، اگر پسند نہ آئے تو پیسے واپس ، حالانکہ اسنے کوئی پیسے نہیں لے رکھے تھے لیکن یہ اس بچارے کا تکیہ کلام ہے ، حالانکہ مجھے نہیں پتہ کہ کلام کی کتنی اقسام ہوا کرتی ہیں ، ہو سکتا ہے ، کوئی ، صوفہ کلام ۔ کرسی کلام۔ ٹیبل کلام۔ الماری کلام جیسی بے شمار اقسام ہوں ، لیکن مجھے انسے کوئی آشنائی نہیں ہے ، حالانکہ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ تکیہ کلام کو تکیہ کلام کیوں کہا جاتا ہے ، جبکہ اس میں تو کہیں بھی تکیہ نہیں لگا ہوتا ، خیر ہمیں کیا ۔ ہم یہاں کلام کی اقسام جاننے تھوڑی نہ بیٹھے ہیں ۔

shakespeare
ہمیں تو اپنے دوست سے لطیفہ سننا ہے۔ جی حضور ارشاد

لطیفہ
تین دوست آپس میں بیٹھے لمبی لمبی چھوڑ رہے تھے۔

پہلا : میرے دادا اتنے بڑے تیراکو تھے ، اتنے بڑے تیراکو تھے ، کہ کوئیں میں چھلانگ لگاتے تو دریا سے باہر آتے ۔

دوسرا: یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میرے دادا اتنے بڑے تیراکو تھے ، اتنے بڑے تیراکو تھے کہ دریا میں چھلانگ لگاتے اور سمندر سے باہر آتے تھے۔

تیسرا: یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میرے دادا اتنے بڑے تیراکو تھے ، اتنے بڑے تیراکو تھے کہ دریا میں چھلانگ لگائی ، ہم نے گھر آکے ٹونٹی کھولی تو دادا بالٹی میں۔
ابھی یہ لطیفہ مکمل ہی نہیں ہوا تھا کہ ہمارے ایک اور دوست آپہنچے ۔ اور یہ ہمیشہ الٹی سیدھی کتابیں پڑہتے رہتے ہیں، لیکن آج تو جناب کے چہرے کی مسرت دیکھنے کی تھی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ سلام نہ جواب بس آتے ہی ۔ ۔ ۔ وہ چیخا ۔۔۔۔۔۔۔ سرپرائز

کیسا سرپرائز؟

بولا ۔۔۔۔ آج تمہارا بہائی شیکسپیئر سے مل کرآرہا ہے۔ مینے سوچا کہ اسنے کوئی کتاب پڑہی ہے شیکسپیئر کی زندگی پر ، لیکن نہیں جناب کی تو بات ہی الگ تھی ۔

ہم سب حیران ہوگئے کہ یہ کیسی کتاب پڑہ لی اسنے کہ آج تو حد کردی ۔ مینے ایسے ہی اسکا دل رکھنے کے لئے کہا کہ ابھی آ پ کافی تھکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ، ذرا چائے نوش کیجئے آرم فرمائیے پھر تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں ،۔ لیکن نہیں اب ہماری کہاں چلنی تھی ۔ صاحب شیکسپیئر سے جو مل کر آرہے تھے ، خیر دوست تھا تو دل رکھنا پڑا ۔ جی سرکار تو بتائیے کیسے ملاقات ہوئی آپکی ۔

بولا
میں ابھی حیدرآباد سے آرہا ہوں ، ایک بس تو پوری بھری ہوئی تھی اس لئے دس منٹ کے لئے رک گیا کہ دوسرے بس آئے پھر جاوں گا ، اتنے میں ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا :………. کراچی کی بس یہاں سے ملے گی ؟ جب مینے اسکو دیکھا تو یقین ہی نہیں آرہا تھا ، میں جواب دینے کی بجائے اس کو حیرت سے تکنے لگا ۔ اتنے میں وہ مسکرا کر بولا تم اتنے حیران کیوں ہو رہے ہو ۔ میں حیرت سے بولا : ارے آپکی شکل تو ہوبہو شیکسپیئر سے ملتی ہے ۔

میں شیکسپیئر ہی ہوں ، اسنے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

جب مینے اسکے چہرے کو غور سے دیکھا تو ۔۔۔ ہاں یار ۔۔۔۔ واقعی ۔۔۔ یہ تو شیکسپیئر ہی ہے۔ پھر تو پورے راستے میں شیکشپیئر بہائی سے گفت و شنید جاری رہی ، انہوں نے اپنی نئی ناول دکھائی ۔ کہہ رہے تھے کہ جونہی مکمل کروں گا تو شایع بھی کراوں گا ۔ پھر مینے اپنی شاعری جب انہیں سنائی ، تو وہ حیراں رہ گئے کہ تمہاری شاعری سے تو اسد اللہ غالب کی خوشبو آتی ہے ، یہ تحریر کا کام کبھی بھی منقطع نہ کرنا ، تم بہت اچھا لکھ لیتے ہو ۔ یوں ہی گپ شپ کا سلسلہ جاری رہا ۔ وقت کا احساس ہی نہیں ہوا کہ کب دو گھنٹے پورے ہوئے اور کب کراچی پہنچ گئے ۔ صدر پہنچتے ہی ہم نے ساتھ میں چائے پی ، پھر شیکسپیئر نے کہا کہ اچھا بہائی اب چلتا ہوں ، مجھے ابھی اور آگے جانا ہے ۔

اور میں یہاں آ گیا ۔ سوچا کہ یہ خوشخبری سب سے پہلے آپ لوگوں کو سناوں ۔

سرپرائز تو کسی سے بھی ہضم نہیں ہوا ، پھر بھی ہم اخلاق خاموش رہے لیکن ہمارے ایک دوست جو اس سے پہلے لطیفہ سنا رہے تھے ان سے رہا نہیں گیا ۔ وہ پھٹ پڑے ۔۔۔۔ بولے

او میرے بھائی ۔۔ ٹھیک ہے میں مانتا ہوں کہ تمہیں اچھی خاصی نالیج ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں تم اب بہکی بہکی باتیں کرنے لگو ۔

کیا مطلب کہ بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں ؟؟

صاف بات ہے یا ر ۔۔۔ ایک بندہ جو کب کا مرچکا ہے ۔۔۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ تمہاری اس سے ملاقات ہوئی ہے ۔۔۔۔ بھلا مرے ہوئے انسان سے کبھی ملاقات ہو سکتی ہے ؟؟؟؟

اس پر ہمارے دوست غصہ سے آگ بگولا ہو کر کرسی سے اٹھے اور من ہی من کچھ بڑ بڑانے لگے ۔ مینے فوراََ اس سے معافی چاہی کہ یہ کم فہم آپکی بات کو سمجھ نہیں پایا اس لئے ، بدتمیزی کر بیٹھا ۔۔۔۔ آپ اسکی باتوں کا برا نہ مانیں ۔ مجھے یقین ہے کہ آپکی ملاقات ہوئی ہوگی ۔ ورنہ آپ جہوٹ والے تو انسان ہی نہیں ہیں ۔ لیکن اسنے میری بات پر کوئی توجہ ہی نہیں دی ۔ پھر اسی بدتمیز دوست سے مخاطب ہوکر کہنے لگا ۔

جب تم مرے ہوئے شخص کو پکڑ کر دوبارہ قتل کرسکتے ہو ۔ تو کیا میں ایک مرے ہوئے شخص سے ملاقات بھی نہیں کر سکتا ۔

اس پر ہمارے بدتمیز دوست شرمسار ہوکر رہ گئے ۔ کہ بات میں تو دم ہے ۔ اگر اسامہ بن لادن مرنے کے بعد دوبارہ ایبٹ آباد میں قتل ہوسکتا ہے تو پھر یہ سادہ انسان شیکسپیئر سے کیوں نہیں مل سکتا ۔۔۔۔۔۔

کرسی کرسی کھیل

آپ کافی پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہیں ، ظاہر ہے جب آپ اردو تحریر پڑہ رہے ہیں اسکا مطلب تو صاف ہے  کہ آپکو اردو زبان  سے تھوڑی بہت تو   آشانائی ہوگی  ورنہ ، اس مہنگائی کے دور میں کون فضول میں بیٹھ کر کسی کی تحریر پڑہتا ہے آج کل تو خط و کتابت کا رواج ہی نہیں رہا   آپ موبائیل پرصرف   (hi h r u ? ) لکھیں جواب آجائیگا۔ لوگوں کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ  دو گھنٹے بیٹھ کر خط لکھیں ، پھر پوسٹ آفیس میں دے آئیں ، پھر بیٹھےڈاکیے کا انتظار کرتے پھریں کہ کب جواب موصول ہوگا۔ اور اسی چکر میں آجکل تو بچارے کبوتر بھی بے روزگار گھوم رہے ہیں ۔۔  چٹھی تو کیا کوئی ان سے خالی لفافے بھی نہیں منگواتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں میں آپکو ایک لفظ کی دو معنی سمجاتا ہوں اس سے آپکے علم و شغل میں بھی اضافہ ہوگا اور  تحریر سمجھنے میں بھی آسانی ہوگی۔ اور وہ لفظ ہے سیاست۔

a

سیاست کی ایک معنی تو ہے   انتظام حکومت یا ملکی انتظام چلانے کا فن لیکن یہ معنی اب کافی پرانی ہوچکی ہے اس لئے ہمارے بڑوں نے اس قیمتی اور قدیم ورثہ کو کتابوں میں محفوظ کرلیا  تاکہ یہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رہ سکے  اس لئے  اب یہ صرف کتابوں میں ہی ملتا ہے۔

لیکن سیاست کی نئی اور تازہ معنی جو آجکل کے معاشرے میں بہت عام ہے ،  ہر گھر ، آفیس اور ادارے  میں  بھی دستیاب  ہے، اتنی سستی کہ اسے کوئی بچہ بڑا امیر یا غریب یکسر خرید کر سکتا ہے ۔  اور وہ نئی معنی  ہے  دہوکہ فریب ،  اوروں کا بیڑا غرق کرنا ، کرسی کے لئے لڑنا ،  کرسی کے لئے  ہزاروں معصوم جانوں کو موت کے گھاٹ اتاردینا ۔  بس جو اس میں جتنا آگے ہے وہ اتنا بڑا سیاستدان ہے ۔

تین روز قبل  ایک تعلیمی ادارے  کے شان میں جو  قصیدہ کشائی ہوئی ، وہ خوب گائی بھی گئی اور دہرائی بھی گئی لیکن  کیا آپکو معلوم  ہے کہ ان مناظر کو کیا نام دینا چاہیئے  ۔؟۔۔۔۔۔۔ جی ہاں ، بہت ہی آسان نام  کرسی کھیل ۔
آو کرسی کرسی کھیلیں

بچپن میں تو آپنے یہ کھیل خوب کھیلا ہوگا ۔  جی بلکل۔۔۔ یہ وہی کھیل ہے لیکن تھوڑا مختلف ہے ۔اس کھیل میں جیسے ہی میوزک رکا تو سب کو بیٹھنا ہے لیکن جس کے لئے کرسی نہ بچی وہ آٗوٹ ، اور آخر میں ایک کرسی اور دو امید وار پس پھر جو بیٹھا وہی جیتا ۔ لیکن یہاں معاملا تھوڑا مختلف ہے ،  یہاں کرسی کے چکر تو ضرور  لگتے ہیں ، لیکن جیتنے کے لئے اگلے کی ٹانگ کھینچنی پڑتی ہے۔

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنی برادری کے سارے لوگوں کو جمع کردو،  انہیں احساس دلاو کہ تمہاری حق طلفی ہو رہی ہے ،  جب ایسا ہوجائے تو  بس آپ بیٹھے بٹھائے طاقتور ہوجاتے ہیں ۔ جیسے ابھی عرب ممالک میں ہورہا ہے ، ایسے نام سامنے آگئے جن کا اس  سےقبل کوئی ذکر ہیں نہیں ملتا ۔ جیسے چرچ آف فلوریڈا کے ملعون پادری ٹیری جونس نے کیا مرنےسے پہلے نام کمانے کی آسان ترکیب ،   خدا کی لعنت ہو اس منحوس پر اسنے نام کمانے کے لئے قرآن پاک کو نظر آتش کردیا ۔
ایسے لوگ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں ، جو دوسروں کے کندہوں پر پیر رکھ کر آگے بڑھنے  کی کوشش کرتے ہیں  ،  ۔
تین روز  قبل بھی ایسا ہی ہوا ، ایک تعلعمی ادارے میں  ، جو لوگ سابق پرنسیپل کو ہٹانے کے لئے لمبے عرصے سے بڑی آفیسوں  کے چکر کاٹ رہے تھے ۔  تاکہ  وہ خود  پرنسیپل بن سکیں ۔ جب یہ تحریک زور پکڑ گئی تو چیئر مین نے  ایک اور سینئر استاد کو یہ عہدہ سونپ دیا ۔

پھر تو یہ ہونا ہی تھا ۔۔۔۔۔ امیدوار کھڑے کے کھڑے رہ گئے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے  چارج کسی اور نے لے لی ، بس پھر ہونا کیا تھا ۔  اپنے دشمن کے ہی جان نثار ہوگئے ، کیوں کہ اسکی جڑیں تو کاٹی جا چکی ہیں ، اسے تو کبھی بھی اب ہٹایا جا سکتا ہے ، لیکن نئے پرنسیپل کو ہٹانے کے لئے پھر سرے سے کوشش کر نی پڑے گی ۔

پھر جو ہونا تھا وہ تو  آپنے ٹی وی      پر دیکھ ہی لیا ہوگا
ہمارے معاشرے کے

علم بیچنے والے ، شریف لوگوں کے بے پہرن   اور بدنما  اخلاقی مجسمے
کس قدر نمایا ں نظر آرہے تھے ۔

اگر یہ حال اساتذہ کا ہوجائے تو  پھر ۔۔۔۔۔ بچوں کی پرورش کیا ہوگی

پبلڪ اسڪول حيدرآباد جي ياد ۾

16 مئي 2011 جي شام کان ڪجهه نجي ٽي وي چينلز تي مرحوم پبلڪ اسڪول حيدرآباد جي آخري ديدار جا تازا  ڪلپ رپيٽ ٿي رهيا هئا  جنهن ۾ اسڪول جي الوداعي رسمن کي ڏيکاريو پئي ويو ¸اسان جهڙا ڪافي پيارا دوست به انهيءَ الوداعي تقريب کي ڏسڻ جو شرف ماڻي چڪا هوندا .

a

نهايت ئي دردناڪ منظر هو ، جنهن ۾ نئين پرنسيپل واحد صاحب کي ڪرسين تان اٿاري ڌڪا ڏئي آفيس کان ٻاهر ڪڍي ڇا ته سهڻو سبق  ڏنو ويو انهن تمام مائٽن کي جيڪي پنهنجن ٻارن جي مستقبل کي روشن بڻائڻ لاءِ پبلڪ اسڪول جو رخ ڪرڻ وارا آهن . ته خبردار پنهجي جگر جي ٽڪڙن کي هتي داخل ڪري هن منهگائي واري دور ۾ ڳاٽو ڀڃندڙ خرچ ڪرڻ کان پهرين چڳي ريت اسانجي اخلاقيات جو پڻ جائزو وٺي وٺو ،  ته اسان جا قابل احترام استاد پاڻ ۾ ڇا ته اخلاق جا جوهر رکن ٿا ۽ سڀاڻي انهن جي هٿان ئي توهانجي ٻارن جي تربيت ٿيڻي آهي ، جيڪي اڳتي هلي ڪري پنهنجي استادن جي نقش قدم تي سڀاڻي توهانکي به گهرن مان ايئن ئي روانو ڪندا ، جيئن اڄ انهن خود مظا هرو ڪيو.
پبلڪ اسڪول جي ماضي قريب تي نظر ڊوڙائيندي ڪجهه خاص ڳالهين کان آگاهه ڪندو هلان ته جيئن اسانجا اهي دوست ۽ ڀائر جيڪي وڏي عرصي کان پبلڪ اسڪول جي حالات کان غير واقف رهيا آهن ، کين آگاهي ملي ته جيئن هو منهنجي هن اپيل کي سمجهي سگهن .
مرحوم اسحاق ابڙو جي وقت تائين پبلڪ اسڪول رفته رفته ترقي جي طرف وڌي رهيو هو ، جنهن ۾ پبلڪ اسڪول جي اندر نياڻين جي تعليم جو پڻ بندوبست ڪيو ويو ، ڪو ايجوڪيشنل سسٽم جي بجاءِ بلڪل ئي الڳ ۽ نئين طرز تي جڙيل گرلس سيڪشن جي تعمير جنهن ۾ نياڻين جي رهائش لاءِ عائشه هاسٽل به جوڙي وئي ،۽نياڻين جي اعليٰ تعليم لاءِ جدا ليبارٽريز جو پڻ بنياد وڌو ويو ته جيئن اسانجي معاشري ۾ جيڪي انتظام ڇوڪرن جي تعليم لاءِ موجود آهن سي پڻ نياڻين جي لاءِ به ضروري  آهن ته ڪٿي اسانجي معاشري جون نياڻيون تعليم جي اعليٰ زيور کان محروم نه رهجي وڃن ، بعد ازان مظهر طفيل صاحب کي پرنسيپل بڻاليو ويو جيڪو انکان اڳي ئي پبلڪ اسڪول جي ڪالج سيڪشن جو وائيس پرنسيپل رهي چڪو هو ، ليڪن وري به اسڪول جي ترقي جو ڪم جاري و ساري رهيو جنهن ۾ ڪافي عرصي کان بند پيل سوئمنگ پول جي جوڙ جڪ مڪمل ڪري انکي شاگردن جي تفريح لاءِ کوليو ويو ، هي اهو وقت هو جنهن ۾ اسڪول جي اندر اختلافات ڦٽڻ لڳا جنهن ۾ چوٽ چڙهيل معاملو اسڪول جي اڀرندي حصي کي وڪڻي اتي شادي هال جي تعمير جي شڪل ۾ سامهون آيو ليڪن اهو مسئلو ڪجهه وقت کان پوءِ ٿڌو ٿي ويو ، مظهر طفيل جي وقت مڪمل ڪرڻ کان پوءِ سر عباس رضا عباسي کي پبلڪ اسڪول جو پرنسيپل بڻايو ويو جيڪو پڻ ان کان پهرين ڪالج سيڪشن جو پرنسيپل رهي چڪو هو. عباسي صاحب به اسڪول جي ترقياتي ڪمن کي جاري رکيو جنهن ۾ وڏي وقت کان بند پيل چڙيا گهر ٻيهر نئون سئون ڪري ٻارن جي سير آوري لاءِ کوليو ويو ، اسڪول جي ياد گار ٽاور کي به نهايت ئي سهڻن ۽ رنگين پٿرن سان سنواري اسڪول جي موجوده دلڪشي ۾ اضافو ڪيو ويو ، ليڪن انهيءَ عرصي ۾ اسڪول جي ناراض استادن  پهريون ڀيرو هڪ تعليمي اداري  ۾ قوم پرستي کي متعارف ڪرايو ۽ نتيجي ۾ اسڪول جي اندروني معاملن کي ميڍيا تي آندو ويو .
وري پهريون ڀيرو پبلڪ اسڪول حيدرآباد ۾ استادن ڪلاس رومز بند ڪري تعليم جو بائيڪاٽ پڻ ڪيو، ۽ اهو معاملو اتي ئي ختم نه ٿي ويو پر اسڪول جا استاد ٻن ڌڙن ۾ تقسيم ٿي ويا ، ۽ نتيجي ۾ اسڪول جو معيار ڏينهون ڏينهن متاثر ٿيڻ لڳو ، پر ڪالهوڪي حرڪت کان پوءِ يقين ٿي ويو ته اهي اسڪول جي الوادعي تقريب جا آثار آهن.

جيڪو اسڪول پنهجي نظم و ضبط ۽ اعليٰ تعليم جي ڪري مشهور رهيو هو اتي هاڻي ان طرح جا معاملا معمول جو حصو بڻجي چڪا آهن.
خدا نه ڪري جو پبلڪ اسڪول محض قصن ڪهاڻين ۽ يادن جو حصو بڻجي وڃي ، خدا سندس بقا سلامت رکي. ليڪن ڪجهه عرصو پهرين اهو ٻڌڻ ۾ اچي رهيو هو ته پبلڪ اسڪول کي بند ڪري ان جي جڳهه تي اردو يونيورسٽي قائم ڪرڻ جي خواهش سامهون اچي رهي آهي ، شايد اسانجا قابل احترام استاد هاڻي انهيءَ خواهش جي تڪميل لاءِ ڪوششن ۾ رڌل آهن ، انڪري مان پنهنجي انهن تمام ڌوستن ۽ ڀائرن کي گذارش ٿو ڪريان ته پبلڪ اسڪول جي هن مشڪل گهڙي ۾ ان جو ساٿ ڏين ۽ کيس سياسي ۽ ذاتي جيهڙن جي ڀيٽ چڙهڻ کان بچائڻ لاءِ وڌ کان وڌ تعاون ڪن

%d bloggers like this: